لاہور کے علاقے کاہنہ نو فیروزپور روڈ پر منگل کو قربان سکول کے قریب ایک گھر کے کمرے کی چھت گرنے سے 14 بچے جان سے گئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی وہیکلز اور اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ چھت گرنے سے جان سے جانے والے بچوں کی تعداد 14 ہے جب کہ چھ بچے زخمی ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے موقعے پر پہنچیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ کمرے کی چھت ٹی آر گارڈر پر مشتمل تھی۔
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق تقریباً سات سے 15 سال عمر کے 20 بچے کلاس میں موجود تھے جب ٹیوشن سینٹر کی چھت کا سلیب اچانک ان پر گر گیا۔
20 بچوں کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ لایا گیا جہاں 14 بچوں کو مردہ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو لڑکے اور پانچ لڑکیاں شامل ہیں جبکہ چھ بچے زخمی ہیں۔
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق زخمی بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن لاہور محمد نوید نے میڈیا کو بتایا کہ شناخت کے بچوں کی لاشیں ان کے والدین کے حوالے کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ٹیچر کی حالت تشویش ناک ہے۔
ایس ایس پی محمد نوید نے مزید بتایا کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی اور قانونی کارروائی کے لیے مشاورت کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے حادثے میں بچوں کے جان سے جانے پر دکھ اطہار کیا۔
وزیراعظم کی حادثے میں زخمی ہونے والوں کے لیے ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی۔
سینیئر پولیس افسر فیصل کامران نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ٹیوشن سینٹر کے مالک اور ایک اور شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فیصل کامران نے کہا کہ ٹیوشن سینٹر ایک پرانی عمارت میں قائم تھا اور بظاہر نامکمل دوسری منزل کی چھت ناقص تعمیر کے باعث گر گئی۔
پاکستان میں عمارتوں کے گرنے کے واقعات عام ہیں جہاں تعمیراتی معیار پر عملدرآمد اکثر کمزور ہوتا ہے۔
بہت سی عمارتیں غیر معیاری مواد سے تعمیر کی جاتی ہیں اور اخراجات کم کرنے کے لیے حفاظتی ضوابط کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔